10 ستمبر 2012 - 19:30

پولیٹیکل حکام کے مطابق دھماکہ خیز مواد ایک گاڑی میں رکھا گیا تھا اور اس کی مقدار چالیس کلو گرام سے زیادہ تھی۔ دھماکے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے شہر کا کنٹرول سنبھال لیا اور سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ شہر کی سکیورٹی سخت کر دی گئی۔

ابنا: پارا چنار میں کشمیر چوک پر کار بم دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 40 کے قریب زخمی ہو گئے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پولیٹکل حکام کے مطابق دھماکہ ایک گاڑی میں نصب بارودی مواد سے کیا گیا، جو کشمیر چوک پر کھڑی کی گئی۔ دھماکے کے بعد علاقے کی بجلی بند ہو گئی جبکہ جائے وقوع پر شدید افراتفری دیکھی گئی۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کو ایجنسی ہیڈ کوارٹرز اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ علاقے کو سکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا ہے اور شواہد اکھٹے کئے جا رہے ہیں۔ سابق سینیٹر علامہ سید عابد حسین الحسینی نے ’’اسلام ٹائمز‘‘ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے 13 افراد کے شہید اور 58 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی، ان کا کہنا تھا کہ زخمی ہونے والوں میں سے 12 افراد کو طبی امداد کی فراہمی کے بعد اسپتال سے فارغ کردیا گیا، جبکہ 46 زخمی اب بھی زیر علاج ہیں، انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں اہل تشیع کے قتل عام پر دیگر علماء کرام اور ملی تنظیموں کے ساتھ رابطوں میں ہیں، جبکہ دیگر ذرائع کے مطابق کشمیر بازار کے گنجان بازار میں دھماکے کے وقت بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ دھماکے سے اردگرد کی دکانیں اور قریب کھڑی کئی گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ دھماکے کے بعد پورے شہر کی بجلی بند ہو گئی اور مواصلات کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا۔ زخمیوں کو ایجنسی ہیڈ کوارٹر اسپتال پارا چنار پہنچایا گیا۔ جہاں متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔ پولیٹیکل حکام کے مطابق دھماکہ خیز مواد ایک گاڑی میں رکھا گیا تھا اور اس کی مقدار چالیس کلو گرام سے زیادہ تھی۔ دھماکے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے شہر کا کنٹرول سنبھال لیا اور سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ شہر کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔ ...../169